رسد گاہ

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - مال خانہ، اسٹور، کھلیان۔ "مدنی صاحب کی رسد گاہ حرف میں وہ وسعتیں اور وہ اہمیتیں اپنے تازہ خدو خال کے ساتھ مجلہ ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٣٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'رسد' کے ساتھ 'گاہ' بطور لاحقۂ ظرفیت لگانے سے مرکب 'رسد گاہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٦ء کو "آنکھ اور چراغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مال خانہ، اسٹور، کھلیان۔ "مدنی صاحب کی رسد گاہ حرف میں وہ وسعتیں اور وہ اہمیتیں اپنے تازہ خدو خال کے ساتھ مجلہ ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٣٢ )

جنس: مؤنث